سخن شناسی

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بات کی تہہ کو پہنچنے والا، بات کو پرکھنے والا؛ (مجازاً) شعر و سخن کا قدر دان۔ "وہ سخن ور تو نہیں تھے، مگر ان جیسا سخن شناس کم دیکھنے میں آیا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٢٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سخن' کے ساتھ 'شناختن' مصدر سے صیغہ امر 'شناس' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٥٩ء سے "خطوط غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بات کی تہہ کو پہنچنے والا، بات کو پرکھنے والا؛ (مجازاً) شعر و سخن کا قدر دان۔ "وہ سخن ور تو نہیں تھے، مگر ان جیسا سخن شناس کم دیکھنے میں آیا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٢٠ )